زکوٰۃ کے بنیادی مسائل
- اشاعت
- تازہ کاری:
- منٹ
- 4 منٹ کا مطالعہ

زکوٰۃ کس پر فرض ہے، نصاب کیا ہے، کتنی ادا کرنی ہے اور کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے۔ آسان زبان میں بنیادی رہنمائی۔
اس مضمون میں7فہرستِ مضمون دیکھیں
زکوٰۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔ یہ مال کو پاک کرتی ہے، دل سے مال کی محبت کم کرتی ہے اور معاشرے کے غریب طبقے کی مدد کا مضبوط نظام ہے۔ قرآنِ کریم میں نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر بار بار آیا ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا۔ (صحیح مسلم) یعنی اللہ کی راہ میں دینے سے مال کی برکت بڑھتی ہے۔
زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟
فقہ حنفی کے مطابق زکوٰۃ اس مسلمان پر فرض ہے جو:
- عاقل اور بالغ ہو۔
- نصاب کے برابر مال کا مالک ہو، جو اس کی بنیادی ضروریات اور قرض سے زائد ہو۔
- اس مال پر ایک قمری (اسلامی) سال گزر جائے۔
نصاب کیا ہے؟
- سونا: ساڑھے سات تولہ (تقریباً 87.48 گرام)۔
- چاندی: ساڑھے باون تولہ (تقریباً 612.36 گرام)۔
- نقد رقم، تجارتی مال، یا سونا چاندی اور نقدی ملا کر: اگر ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا زیادہ ہو۔
آج کل چاندی کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ چاندی کے نصاب کے حساب سے صاحبِ نصاب بن جاتے ہیں۔ اس لیے اپنی بچت کا حساب ضرور کریں۔
کتنی زکوٰۃ ادا کرنی ہے؟
قابلِ زکوٰۃ مال کی کل قیمت کا ڈھائی فیصد (2.5%)، یعنی ہر 100 روپے پر ڈھائی روپے۔ مثال: اگر سال پورا ہونے پر آپ کے پاس قابلِ زکوٰۃ مال کی کل مالیت 4 لاکھ روپے ہے تو زکوٰۃ 10,000 روپے ہو گی۔ آسان حساب کے لیے ہماری ویب سائٹ کا زکوٰۃ کیلکولیٹر استعمال کریں۔
کن چیزوں پر زکوٰۃ نہیں؟
- رہائش کا مکان، استعمال کی گاڑی، گھریلو سامان اور پہننے کے کپڑے۔
- کاروبار کی مشینری اور اوزار (البتہ بیچنے کے لیے رکھا گیا مال قابلِ زکوٰۃ ہے)۔
زکوٰۃ کن کو دی جائے؟
قرآنِ کریم (سورۃ التوبہ، آیت 60) میں زکوٰۃ کے مستحقین بیان کیے گئے ہیں، جن میں فقیر، مسکین، قرض دار اور مسافر شامل ہیں۔ چند اہم باتیں:
- زکوٰۃ کسی مستحق مسلمان کو مالک بنا کر دی جائے۔
- اپنے والدین، دادا دادی، اولاد اور پوتے پوتیوں کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی؛ میاں بیوی بھی ایک دوسرے کو نہیں دے سکتے۔
- بہن بھائی، چچا، ماموں اور دیگر رشتہ دار مستحق ہوں تو انہیں دینا افضل ہے: زکوٰۃ بھی ادا اور صلہ رحمی بھی۔
- سادات کرام (بنو ہاشم) کو زکوٰۃ نہیں دی جاتی؛ ان کی خدمت اپنے دوسرے مال سے ہدیہ کے طور پر کریں۔
- زکوٰۃ دیتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ ہے؛ دل میں نیت کافی ہے۔
ضروری نوٹ
کاروبار، شیئرز، پلاٹ، قرض یا مشترکہ مال جیسے پیچیدہ معاملات میں حساب کے لیے کسی مستند دارالافتاء سے رجوع کریں۔
خلاصہ
صاحبِ نصاب مسلمان پر سال گزرنے کے بعد اپنے قابلِ زکوٰۃ مال کا ڈھائی فیصد ادا کرنا فرض ہے۔ زکوٰۃ وقت پر اور مستحق کو دیں، اور اپنے رشتہ داروں میں مستحق تلاش کرنے کو ترجیح دیں۔
شیئر کریں


