اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے
- اشاعت
- تازہ کاری:
- منٹ
- 4 منٹ کا مطالعہ

صحیح بخاری کی پہلی حدیث جو ہر نیک عمل کی روح بیان کرتی ہے۔ نیت کیا ہے، کیسے درست ہوتی ہے اور روزمرہ کاموں کو عبادت کیسے بنایا جائے۔
اس مضمون میں8فہرستِ مضمون دیکھیں
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب صحیح بخاری کا آغاز جس حدیث سے کیا، وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ علما فرماتے ہیں کہ یہ حدیث دین کے ایک بڑے حصے کی بنیاد ہے، کیونکہ ہر عمل کی قبولیت کا تعلق اسی سے ہے۔
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِمفہوم: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث 1)
حدیث کے اگلے حصے میں ہے کہ ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ پھر ہجرت کی مثال دی گئی کہ ایک ہی سفر کسی کے لیے اللہ اور رسول کی خاطر ہوتا ہے اور کسی کے لیے دنیا کی خاطر۔ ظاہر میں دونوں سفر ایک جیسے ہیں، مگر اللہ کے ہاں ان کی قیمت نیت سے طے ہوتی ہے۔
نیت کیا ہے؟
نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔ زبان سے کہنا اچھا ہے مگر اصل چیز دل کا ارادہ ہے۔ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے دل میں یہ ہونا کہ میں فلاں نماز اللہ کے لیے پڑھ رہا ہوں، یہی نیت ہے۔
اچھی نیت کے تین فائدے
1. عبادت قبول ہوتی ہے
نماز، روزہ، صدقہ اور حج جیسی عبادات میں اگر مقصد اللہ کی رضا ہو تو یہ قبول ہوتی ہیں۔ اگر مقصد لوگوں کی تعریف ہو تو عمل کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے دکھاوے سے بچنے کی سخت تاکید آئی ہے۔
2. عام کام بھی ثواب بن جاتے ہیں
کھانا، سونا، کمانا اور گھر والوں پر خرچ کرنا عام دنیاوی کام لگتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ نیت کرے کہ میں اس لیے کھا رہا ہوں کہ عبادت کی طاقت ملے، یا اس لیے کما رہا ہوں کہ حلال روزی سے گھر والوں کا حق ادا کروں، تو یہی کام ثواب کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
3. ایک عمل میں کئی نیتیں
ہمارے بزرگ سکھاتے ہیں کہ ایک کام میں کئی اچھی نیتیں جمع کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً مسجد جاتے ہوئے نماز کی نیت کے ساتھ یہ نیت بھی کر لیں کہ راستے میں سلام کروں گا، کسی کو تکلیف نہیں دوں گا، اور مسجد میں اعتکاف کی نیت کر لوں گا۔ ہر نیت پر الگ ثواب کی امید ہے۔
نیت درست رکھنے کے عملی طریقے
- ہر کام سے پہلے لمحہ بھر رک کر خود سے پوچھیں: میں یہ کیوں کر رہا ہوں؟
- نیک کام کو چھپا کر کرنے کی عادت ڈالیں، جیسے خاموشی سے صدقہ دینا۔
- تعریف ملے تو دل میں اللہ کا شکر ادا کریں اور اسے اپنا کمال نہ سمجھیں۔
- کام کے دوران نیت بدل جائے تو فوراً توبہ کر کے دوبارہ اللہ کی رضا کا ارادہ کر لیں۔
ایک اہم وضاحت
اچھی نیت کسی ناجائز کام کو جائز نہیں بناتی۔ مثلاً کوئی شخص حرام کمائی سے صدقہ دینے کی نیت کرے تو اس کی اچھی نیت اس کمائی کو حلال نہیں کرے گی۔ نیت اس عمل کو قیمتی بناتی ہے جو خود شریعت کے مطابق ہو۔
خلاصہ
یہ مختصر سی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو دیکھتا ہے۔ اگر ہم روز صبح یہ نیت کر لیں کہ آج کا ہر جائز کام اللہ کی رضا کے لیے کروں گا، تو ہمارا پورا دن عبادت بن سکتا ہے۔
شیئر کریں


