سال 2027 کی سرکاری تعطیلات: تاریخیں اور تاریخی پس منظر
- اشاعت
- منٹ
- 8 منٹ کا مطالعہ

یومِ کشمیر سے قائدِ اعظم ڈے تک، 2027 میں پاکستان کی متوقع عام تعطیلات کی تاریخیں، دن اور ہر چھٹی کے پیچھے چھپی تاریخ ایک جگہ۔
اس مضمون میں17فہرستِ مضمون دیکھیں
ہر سال کے آخر یا نئے سال کے آغاز میں وفاقی حکومت (کیبنٹ ڈویژن) اگلے سال کی سرکاری تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے۔ سال 2027 کا باضابطہ نوٹیفکیشن ابھی جاری نہیں ہوا، اس لیے نیچے دی گئی فہرست 2026 کے سرکاری نوٹیفکیشن میں شامل تعطیلات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مقررہ قومی دنوں کی تاریخیں ہر سال ایک جیسی رہتی ہیں، جبکہ اسلامی تہواروں کی تاریخیں چاند پر منحصر ہیں۔
اہم: عیدین، عاشورہ اور عید میلاد النبی ﷺ کی تاریخیں متوقع ہیں۔ حتمی تاریخ کا اعلان رویتِ ہلال کمیٹی کے فیصلے اور حکومت کے نوٹیفکیشن سے ہوگا، اور اس میں ایک دن کا فرق آ سکتا ہے۔
ایک نظر میں: 2027 کی تعطیلات
- یومِ یکجہتیٔ کشمیر: 5 فروری، جمعہ
- یومِ پاکستان: 23 مارچ، منگل
- عید الفطر: متوقع 10 سے 12 مارچ، بدھ تا جمعہ
- یومِ مئی (مزدوروں کا عالمی دن): 1 مئی، ہفتہ
- عید الاضحیٰ: متوقع 16 سے 18 مئی کے لگ بھگ، اتوار تا منگل
- یومِ تکبیر: 28 مئی، جمعہ
- عاشورہ (9 اور 10 محرم): متوقع 15 اور 16 جون، منگل اور بدھ
- یومِ آزادی: 14 اگست، ہفتہ
- عید میلاد النبی ﷺ (12 ربیع الاول): متوقع 15 اگست، اتوار
- یومِ اقبال: 9 نومبر، منگل
- یومِ قائدِ اعظم اور کرسمس: 25 دسمبر، ہفتہ
- کرسمس کا اگلا دن (صرف مسیحی ملازمین کے لیے): 26 دسمبر، اتوار
اس سال کی خاص باتیں
- یومِ مئی، یومِ آزادی اور یومِ قائدِ اعظم ہفتے کے دن آ رہے ہیں، یعنی جن دفاتر میں ہفتے کی چھٹی ہوتی ہے وہاں اضافی چھٹی نہیں ملے گی۔
- فلکیاتی حساب کے مطابق 12 ربیع الاول 1449ھ 14 یا 15 اگست 2027 کو آ سکتی ہے، یعنی یومِ آزادی اور عید میلاد النبی ﷺ ایک ساتھ یا مسلسل دو دن منائے جا سکتے ہیں۔
- یومِ کشمیر اور یومِ تکبیر جمعہ کو ہیں، اس لیے ہفتہ وار چھٹی کے ساتھ مل کر تین دن کا وقفہ بن سکتا ہے۔
- رمضان المبارک 1448ھ متوقع طور پر فروری 2027 کے دوسرے ہفتے میں شروع ہوگا۔
بینک تعطیلات
یکم جنوری (جمعہ) اور یکم جولائی (جمعرات) کو بینک عوامی لین دین کے لیے بند رہتے ہیں، البتہ سرکاری دفاتر کھلے رہتے ہیں۔ ان دنوں میں بینک اپنے سالانہ اور ششماہی حسابات بند کرتے ہیں۔
ہر چھٹی کا تاریخی پس منظر
یومِ یکجہتیٔ کشمیر (5 فروری)
یہ دن کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور ان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے۔ 1990 میں اسے پہلی بار ملک گیر سطح پر منایا گیا اور بعد میں یہ باقاعدہ سرکاری تعطیل بن گیا۔ اس دن ملک بھر میں ریلیاں نکلتی ہیں، کوہالہ اور آزاد کشمیر کو ملانے والے پلوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی ہے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
یومِ پاکستان (23 مارچ)
23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں وہ قرارداد منظور ہوئی جسے قراردادِ لاہور یا قراردادِ پاکستان کہا جاتا ہے۔ اسی جگہ آج مینارِ پاکستان کھڑا ہے۔ 23 مارچ 1956 کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا اور ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا۔ اس دن اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ ہوتی ہے اور قومی اعزازات دیے جاتے ہیں۔
عید الفطر (یکم شوال)
رمضان المبارک کے روزوں کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا دن۔ عید کی نماز سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنا سنت طریقہ ہے تاکہ غریب بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ پاکستان میں عموماً عید الفطر کی تین دن کی تعطیلات ہوتی ہیں۔
یومِ مئی (1 مئی)
یہ دن دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس کی بنیاد 1886 میں امریکہ کے شہر شکاگو میں آٹھ گھنٹے کام کے مطالبے پر چلنے والی مزدور تحریک ہے۔ اسلام نے صدیوں پہلے مزدور کے حق کی تاکید کی اور حضور ﷺ نے مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اجرت دینے کا حکم دیا۔ (مفہوم، سنن ابن ماجہ)
عید الاضحیٰ (10 ذوالحجہ)
یہ دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی اور اطاعت کی یاد ہے۔ انہی دنوں میں حج ادا ہوتا ہے اور صاحبِ استطاعت مسلمان سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانور قربان کرتے ہیں۔ پاکستان میں عموماً عید الاضحیٰ کی تین یا چار دن کی تعطیلات ہوتی ہیں۔
یومِ تکبیر (28 مئی)
28 مئی 1998 کو بلوچستان کے ضلع چاغی کے پہاڑوں میں پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکے کیے اور مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔ یہ دن ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی یاد میں منایا جاتا ہے اور 2024 سے اسے عام تعطیل کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
عاشورہ (9 اور 10 محرم)
10 محرم 61ھ کو کربلا کے میدان میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا نے حق اور دین کی سربلندی کے لیے جامِ شہادت نوش کیا۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تھی۔ حضور ﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور اس کی ترغیب دی، اور فرمایا کہ آئندہ سال ہوں تو نو محرم کا روزہ بھی رکھیں گے۔ (مفہوم، صحیح مسلم) اہلِ سنت اس دن روزہ، ذکرِ شہدائے کربلا، تلاوت، ایصالِ ثواب اور صدقہ و خیرات کا اہتمام کرتے ہیں۔
یومِ آزادی (14 اگست)
14 اگست 1947 کو برصغیر کے مسلمانوں کی طویل جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ یہ دن رمضان المبارک کی 27ویں شب کے ساتھ آیا تھا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح ملک کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ اس دن صبح توپوں کی سلامی، پرچم کشائی کی تقریبات اور شام کو چراغاں ہوتا ہے۔
عید میلاد النبی ﷺ (12 ربیع الاول)
یہ دن رحمۃٌ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ اہلِ سنت و جماعت اس موقع پر محافلِ میلاد، کثرت سے درود شریف، نعت خوانی، سیرتِ طیبہ کے بیانات، جلوس، چراغاں اور لنگر کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس خوشی کا اصل تقاضا یہ ہے کہ حضور ﷺ کی سیرت اور سنتوں کو اپنی زندگی میں اپنایا جائے۔
یومِ اقبال (9 نومبر)
شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی شاعری سے مسلمانوں میں خودی اور بیداری کی روح پھونکی اور 1930 کے خطبۂ الہٰ آباد میں مسلمانوں کی الگ ریاست کا تصور پیش کیا۔ یہ تعطیل کچھ سال ختم رہنے کے بعد 2022 میں بحال کی گئی۔
یومِ قائدِ اعظم اور کرسمس (25 دسمبر)
بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ اسی دن ملک کی مسیحی برادری کرسمس مناتی ہے، اور مسیحی ملازمین کو 26 دسمبر کی اضافی چھٹی بھی دی جاتی ہے۔
اختیاری تعطیلات
سرکاری نوٹیفکیشن میں اقلیتی برادریوں کے لیے کچھ اختیاری تعطیلات بھی شامل ہوتی ہیں، جیسے ایسٹر، ہولی، دیوالی اور گرو نانک جی کا یومِ پیدائش۔ یہ چھٹیاں صرف متعلقہ مذہب کے ملازمین لے سکتے ہیں۔
خلاصہ
سال 2027 میں تقریباً 12 مواقع پر سرکاری تعطیلات متوقع ہیں۔ قومی دنوں کی تاریخیں طے شدہ ہیں، جبکہ عیدین، عاشورہ اور عید میلاد النبی ﷺ کی حتمی تاریخیں چاند دیکھنے کے بعد سامنے آئیں گی۔ سفر یا تقریبات کی منصوبہ بندی سے پہلے کیبنٹ ڈویژن کا سرکاری نوٹیفکیشن ضرور دیکھ لیں۔
شیئر کریں


