مرکزی مواد پر جائیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آج کی تاریخ: 9 جمادی الاولیٰ 1448ھ. حسابی ہجری تاریخ · مقامی رؤیتِ ہلال سے مشروط۔

شیئر کریں

دریائے سندھ: پاکستان کی شہ رگ

تحریر:احمد جابر
اشاعت
تازہ کاری:
منٹ
3 منٹ کا مطالعہ
برف پوش پہاڑوں کے درمیان سرسبز وادی میں بہتا ہوا دریا
تصویر: Sunnah info

تبت سے بحیرۂ عرب تک 3,000 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر کرنے والا دریائے سندھ پاکستان کی زراعت، تاریخ اور تہذیب کا مرکز ہے۔

اگر پاکستان کو ایک جسم سمجھا جائے تو دریائے سندھ اس کی شہ رگ ہے۔ ملک کی زراعت، پینے کا پانی، بجلی اور ہزاروں سال پرانی تہذیب، سب اس دریا سے جڑے ہیں۔

دریا کا سفر

  • دریائے سندھ تبت کے علاقے سے نکلتا ہے۔
  • لداخ سے ہوتا ہوا گلگت بلتستان میں داخل ہوتا ہے، جہاں دریائے گلگت اس سے آ ملتا ہے۔
  • پہاڑوں سے نکل کر خیبر پختونخوا اور پنجاب کے میدانوں سے گزرتا ہے۔
  • آخر میں سندھ سے ہوتا ہوا ٹھٹھہ کے قریب بحیرۂ عرب میں گرتا ہے۔

اس کی کل لمبائی 3,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے اور یہ ایشیا کے طویل دریاؤں میں شمار ہوتا ہے۔

معاون دریا

پنجاب کے پانچ دریا، جہلم، چناب، راوی، ستلج اور بیاس، آخرکار پنجند کے مقام کے بعد دریائے سندھ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ "پنجاب" کا لفظی مطلب ہی "پانچ پانیوں کی سرزمین" ہے۔ مغرب کی طرف سے دریائے کابل اٹک کے قریب سندھ سے ملتا ہے۔

قدیم تہذیب

دریائے سندھ کے کنارے دنیا کی قدیم ترین شہری تہذیبوں میں سے ایک، وادیٔ سندھ کی تہذیب، پروان چڑھی۔ موہنجو داڑو (سندھ) اور ہڑپہ (پنجاب) اس تہذیب کے مشہور شہر ہیں، جن کی منصوبہ بند گلیاں، پکی اینٹوں کے مکان اور نکاسیٔ آب کا نظام آج بھی ماہرین کو حیران کرتا ہے۔ موہنجو داڑو کو یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دیا ہے۔

زراعت اور نہری نظام

پاکستان کا نہری نظام دنیا کے بڑے آبپاشی نظاموں میں سے ایک ہے۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر بنے بیراج اور نہریں گندم، کپاس، چاول اور گنے جیسی فصلوں کو پانی دیتی ہیں۔ تربیلا ڈیم دریائے سندھ پر اور منگلا ڈیم دریائے جہلم پر واقع ہیں جو پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ بجلی بھی بناتے ہیں۔

انڈس ڈولفن

دریائے سندھ میں ایک نایاب نابینا ڈولفن پائی جاتی ہے جسے "بلہن" یا انڈس ڈولفن کہتے ہیں۔ یہ دنیا میں صرف اسی دریا میں ملتی ہے اور معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس کے تحفظ کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

مسائل اور ہماری ذمہ داری

  • پانی کا ضیاع: کھیتوں اور گھروں دونوں میں پانی کی بچت ضروری ہے۔
  • آلودگی: فیکٹریوں اور شہروں کا گندا پانی دریا میں جانے سے روکنا۔
  • سیلاب: بارشوں اور گلیشیئر پگھلنے سے آنے والے سیلابوں کے لیے بہتر منصوبہ بندی۔
  • سمندر کا آگے بڑھنا: ڈیلٹا تک کم پانی پہنچنے سے سمندر کا کھارا پانی زمینوں میں داخل ہو رہا ہے۔

اسلام ہمیں پانی ضائع کرنے سے منع کرتا ہے، چاہے بہتے دریا کے کنارے وضو کیوں نہ ہو رہا ہو۔

خلاصہ

دریائے سندھ تبت سے بحیرۂ عرب تک بہتا ہے، پاکستان کی زراعت اور بجلی کا بڑا ذریعہ ہے اور وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کا گہوارہ ہے۔ اس کی حفاظت ہماری قومی اور دینی ذمہ داری ہے۔

شیئر کریں

شیئر کریںواٹس ایپ