مرکزی مواد پر جائیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آج کی تاریخ: 9 جمادی الاولیٰ 1448ھ. حسابی ہجری تاریخ · مقامی رؤیتِ ہلال سے مشروط۔

شیئر کریں

میلاد النبی ﷺ کی خوشیاں منانا

تحریر:احمد جابر
اشاعت
تازہ کاری:
منٹ
4 منٹ کا مطالعہ
نرم دھوپ میں تہہ کی ہوئی سبز جائے نماز اور لکڑی کی تسبیح
تصویر: Sunnah info

ربیع الاول میں حضور ﷺ کی ولادت کی خوشی منانا اللہ کی نعمت کا شکر ہے۔ اس کی بنیاد، اہلِ سنت کا طریقہ اور ادب کے تقاضے۔

ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی مسلمانوں کے گھر، گلیاں اور مساجد روشن ہو جاتے ہیں۔ نعت خوانی کی محفلیں سجتی ہیں، سیرت کے بیان ہوتے ہیں اور غریبوں میں کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔ اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک حضور ﷺ کی ولادتِ مبارکہ کی خوشی منانا اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت پر شکر ادا کرنا ہے۔

نعمت پر خوشی کا حکم

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا

مفہوم: فرما دیجیے کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی پر انہیں خوش ہونا چاہیے۔ (سورۃ یونس، آیت 58)

اور حضور ﷺ کے بارے میں فرمایا:

وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ

مفہوم: اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 107)

جب حضور ﷺ سارے جہانوں کے لیے رحمت ہیں تو آپ کی تشریف آوری پر خوش ہونا اسی رحمت پر خوش ہونا ہے۔

حضور ﷺ کا اپنا عمل

صحیح مسلم میں ہے کہ جب حضور ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی دن میری ولادت ہوئی۔ یعنی آپ ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کو روزے کے ذریعے یاد رکھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ولادت کے دن کو عبادت اور شکر کے ساتھ خاص کرنا پسندیدہ ہے۔

میلاد منانے کا اہلِ سنت کا طریقہ

  • قرآنِ پاک کی تلاوت اور محفلِ نعت کا اہتمام۔
  • سیرتِ طیبہ کا بیان، تاکہ لوگ حضور ﷺ کے اخلاق اور تعلیمات سے واقف ہوں۔
  • درود و سلام کی کثرت۔
  • غریبوں، یتیموں اور پڑوسیوں میں کھانا اور تحائف تقسیم کرنا۔
  • گھروں اور مساجد کو صاف ستھرا کر کے سجانا۔

ادب کے تقاضے

میلاد کی خوشی کا تقاضا ہے کہ ہر کام ادب اور شریعت کے دائرے میں ہو:

  1. نماز کا وقت آئے تو جلوس یا محفل روک کر نماز ادا کی جائے۔
  2. راستے بند کر کے یا اونچی آواز سے بیماروں اور بزرگوں کو تکلیف نہ دی جائے۔
  3. سجاوٹ کے لیے بجلی چوری نہ کی جائے؛ یہ دوسروں کا حق مارنا ہے۔
  4. موسیقی اور ہر ایسے کام سے بچا جائے جو اس مقدس موقع کے شایانِ شان نہیں۔
  5. فضول خرچی کے بجائے رقم کا بڑا حصہ ضرورت مندوں پر خرچ کیا جائے۔

اصل پیغام

میلاد کی سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ ہم حضور ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی میں جگہ دیں۔ اگر ربیع الاول میں ہم سچ بولنے، نماز کی پابندی اور لوگوں سے اچھے سلوک کا عہد کر لیں تو یہی اس مہینے کا بہترین تحفہ ہے۔

خلاصہ

میلاد النبی ﷺ کی خوشی منانا اللہ کی نعمت پر شکر ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت میں موجود ہے۔ اس کا بہترین طریقہ تلاوت، نعت، سیرت کا بیان، صدقہ اور سب سے بڑھ کر حضور ﷺ کی پیروی ہے۔

شیئر کریں

شیئر کریںواٹس ایپ