مرکزی مواد پر جائیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آج کی تاریخ: 9 جمادی الاولیٰ 1448ھ. حسابی ہجری تاریخ · مقامی رؤیتِ ہلال سے مشروط۔

شیئر کریں

کہانی: ننھا سچا دکاندار

تحریر:احمد جابر
اشاعت
تازہ کاری:
منٹ
4 منٹ کا مطالعہ
رنگین کریون، کھلی خالی کاپی اور کاغذ کے چاند ستارے
تصویر: Sunnah info

دس سالہ عمر اپنے ابو کی دکان پر بیٹھا تھا جب ایک گاہک غلطی سے زیادہ پیسے دے گیا۔ ایک سبق آموز کہانی سچائی اور امانت داری کے بارے میں۔

یہ ایک فرضی سبق آموز کہانی ہے۔

عمر دس سال کا ہنس مکھ لڑکا تھا۔ اس کے ابو محلے میں کریانے کی چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں عمر روز عصر کے بعد ابو کے ساتھ دکان پر بیٹھتا، سامان ترتیب سے رکھتا اور حساب لکھنا سیکھتا۔

اکیلے دکان پر

ایک دن ابو کو مسجد میں عصر کی نماز کے بعد کچھ دیر رکنا تھا۔ انہوں نے عمر سے کہا: "بیٹا، دس منٹ دکان سنبھال لو۔ ریٹ کی فہرست سامنے لگی ہے۔" عمر بہت خوش ہوا کہ آج وہ "دکاندار" ہے۔

اتنے میں ایک بزرگ آئے جن کی عینک کا شیشہ دھندلا تھا۔ انہوں نے ایک کلو چینی اور ایک ڈبہ چائے کی پتی لی۔ حساب بنا 600 روپے۔ بزرگ نے جیب سے نوٹ نکال کر دیے اور جلدی میں چلے گئے۔

غلطی کا پتا چلا

عمر نے نوٹ گنے تو حیران رہ گیا۔ بزرگ نے غلطی سے پانچ سو کا ایک نوٹ زیادہ دے دیا تھا! یعنی 1,100 روپے۔

عمر کے دل میں ایک لمحے کو خیال آیا: "کسی کو کیا پتا چلے گا؟ ان پیسوں سے میں نئی کرکٹ کی گیند اور بلا لے سکتا ہوں۔"

پھر اسے امی کی بات یاد آئی جو وہ اکثر کہتی تھیں: "بیٹا، لوگ نہ بھی دیکھیں، اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہوتا ہے۔" اسے اسکول میں پڑھا ہوا سبق بھی یاد آیا کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کو لوگ "صادق" اور "امین" یعنی سچا اور امانت دار کہتے تھے۔

عمر کا فیصلہ

عمر نے دکان کا شٹر آدھا گرایا، پڑوس کے چچا کو کہا کہ ذرا نظر رکھیں، اور پانچ سو کا نوٹ لے کر دوڑا۔ بزرگ ابھی گلی کے موڑ تک ہی پہنچے تھے۔

"بابا جی! بابا جی! آپ نے غلطی سے پانچ سو روپے زیادہ دے دیے تھے۔"

بزرگ نے حیرت سے نوٹ دیکھا، پھر مسکرا کر عمر کے سر پر ہاتھ رکھا: "بیٹا، یہ پیسے میری دوائی کے تھے۔ اللہ تمہیں ہمیشہ سچا اور خوش رکھے۔ تمہارے ماں باپ نے تمہاری بہت اچھی تربیت کی ہے۔"

ابو کی خوشی

جب ابو واپس آئے تو عمر نے سارا واقعہ سنایا۔ ابو کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ انہوں نے عمر کو گلے لگا کر کہا: "بیٹا، آج تم نے صرف پانچ سو روپے واپس نہیں کیے، تم نے ہماری دکان کی عزت بڑھائی ہے۔ سچا تاجر قیامت کے دن نیک لوگوں کے ساتھ ہو گا۔"

اگلے دن وہ بزرگ اپنے بیٹے کے ساتھ آئے اور مہینے بھر کا سارا سامان عمر کے ابو کی دکان سے خریدا۔ انہوں نے محلے والوں کو بھی بتایا کہ اس دکان کا ننھا دکاندار کتنا ایمان دار ہے۔

کہانی کا سبق

  • سچائی اور امانت داری ہر حال میں اپنانی چاہیے، چاہے کوئی دیکھ رہا ہو یا نہیں۔
  • دوسروں کا مال، چاہے غلطی سے ہمارے پاس آ جائے، ہمارا نہیں ہوتا۔
  • ایمان داری سے اللہ بھی خوش ہوتا ہے اور لوگ بھی عزت کرتے ہیں۔

آپ کیا کرتے؟

اپنے امی ابو کے ساتھ بات کریں: اگر آپ کو اسکول میں کسی کی گمشدہ پنسل یا پیسے ملیں تو آپ کیا کریں گے؟

شیئر کریں

شیئر کریںواٹس ایپ