مرکزی مواد پر جائیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آج کی تاریخ: 9 جمادی الاولیٰ 1448ھ. حسابی ہجری تاریخ · مقامی رؤیتِ ہلال سے مشروط۔

شیئر کریں

روشنی کی رفتار اور روشنی کے دلچسپ حقائق

تحریر:احمد جابر
اشاعت
تازہ کاری:
منٹ
4 منٹ کا مطالعہ
شام کے ستاروں بھرے آسمان اور ہلال کی طرف رخ کیے پیتل کی دوربین
تصویر: Sunnah info

روشنی ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد تقریباً ساڑھے سات چکر لگا سکتی ہے۔ روشنی کی رفتار، نوری سال اور قوسِ قزح کے بارے میں دلچسپ معلومات۔

روشنی کے بغیر نہ ہم دیکھ سکتے، نہ پودے خوراک بنا سکتے۔ روشنی کائنات کی تیز ترین چیز ہے اور اس کے بارے میں حقائق حیران کن ہیں۔

روشنی کتنی تیز ہے؟

خلا میں روشنی تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے (زیادہ درست عدد 2,99,792 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے)۔ اس رفتار سے روشنی ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد تقریباً ساڑھے سات چکر لگا سکتی ہے۔

روشنی کے سفر کا وقت

  • چاند سے زمین تک: تقریباً 1.3 سیکنڈ (چاند کا اوسط فاصلہ تقریباً 3,84,400 کلومیٹر ہے)۔
  • سورج سے زمین تک: تقریباً 8 منٹ 20 سیکنڈ۔
  • سورج کے بعد ہمارے قریب ترین ستارے سے: 4 سال سے زیادہ۔

یعنی جب ہم سورج کو دیکھتے ہیں تو اس کی وہ تصویر دیکھ رہے ہوتے ہیں جو تقریباً 8 منٹ پہلے کی ہے۔

نوری سال کیا ہے؟

نوری سال وقت نہیں بلکہ فاصلے کی اکائی ہے: وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، یعنی تقریباً 94 کھرب 60 ارب کلومیٹر۔ ستاروں اور کہکشاؤں کے فاصلے اتنے بڑے ہیں کہ انہیں کلومیٹر میں لکھنا مشکل ہے، اس لیے نوری سال استعمال ہوتا ہے۔

سفید روشنی میں سات رنگ

سورج کی سفید روشنی دراصل بہت سے رنگوں کا مجموعہ ہے۔ جب یہ شیشے کے منشور (پرزم) یا بارش کے قطروں سے گزرتی ہے تو رنگ الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ یہی قوسِ قزح ہے۔ قوسِ قزح ہمیشہ سورج کی مخالف سمت میں نظر آتی ہے، اس لیے اسے دیکھنے کے لیے سورج آپ کی پیٹھ کی طرف ہونا چاہیے۔

آسمان نیلا کیوں ہے؟

سورج کی روشنی جب فضا سے گزرتی ہے تو ہوا کے ذرات نیلی روشنی کو دوسرے رنگوں کے مقابلے میں زیادہ بکھیرتے ہیں۔ یہ بکھری ہوئی نیلی روشنی ہر طرف سے ہماری آنکھوں تک آتی ہے، اس لیے آسمان نیلا دکھائی دیتا ہے۔ صبح اور شام کو روشنی فضا میں لمبا سفر کرتی ہے، نیلا رنگ راستے میں بکھر جاتا ہے اور سرخ و نارنجی رنگ زیادہ نظر آتے ہیں۔

مسلمان سائنس دان اور روشنی

گیارہویں صدی کے مسلمان سائنس دان ابن الہیثم نے اپنی مشہور کتاب "کتاب المناظر" میں تجربات کے ذریعے روشنی اور بصارت پر تحقیق کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم اس لیے دیکھتے ہیں کہ روشنی چیزوں سے ٹکرا کر ہماری آنکھ تک آتی ہے۔ تجربے پر مبنی ان کے طریقۂ کار کو سائنسی طریقۂ کار کی تاریخ میں اہم سمجھا جاتا ہے۔

گھر میں آسان تجربہ

دھوپ والے دن ایک گلاس پانی کھڑکی کے پاس رکھیں اور نیچے سفید کاغذ بچھائیں۔ تھوڑا زاویہ بدلنے پر کاغذ پر چھوٹی سی قوسِ قزح نظر آ سکتی ہے۔

خلاصہ

روشنی تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے، سفید روشنی میں کئی رنگ چھپے ہیں، اور آسمان کا نیلا رنگ روشنی کے بکھرنے کا نتیجہ ہے۔

شیئر کریں

شیئر کریںواٹس ایپ